Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Prophet Muhammad. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Prophet Muhammad in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Prophet Muhammad, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Prophet Muhammad and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#3431 | Narrated by `Abdullah bin `Amr bin Al-`As
Sahih
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ وَنَفِهَتِ النَّفْسُ، صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ ـ أَوْ كَصَوْمِ الدَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ بِي ـ قَالَ مِسْعَرٌ يَعْنِي ـ قُوَّةً‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلاَ يَفِرُّ إِذَا لاَقَى ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-As:The Prophet (ﷺ) said to me, "I have been informed that you pray all the nights and observe fast all the days; is this true?" I replied, "Yes." He said, "If you do so, your eyes will become weak and you will get bored. So fast three days a month, for this will be the fasting of a whole year, or equal to the fasting of a whole year." I said, "I find myself able to fast more." He said, "Then fast like the fasting of (the Prophet) David who used to fast on alternate days and would not flee on facing the enemy

اردو:

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابو العباس نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا میری یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر ( روزانہ ) روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اسی طرح کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور تمہارا جی اکتا جائے گا۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو کہ یہی ( ثواب کے اعتبار سے ) زندگی بھر کا روزہ ہے ‘ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) زندگی بھر کے روزے کی طرح ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں محسوس کرتا ہوں ‘ مسعر نے بیان کیا کہ آپ کی مراد قوت سے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھا کرو۔ وہ ایک دن روزے رکھا کرتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے اور دشمن سے مقابلہ کرتے تو میدان سے بھاگا نہیں کرتے تھے۔

Prophets Sahih Bukhari 3419 Narrated by `Abdullah bin `Amr bin Al-`As
#3432 | Narrated by 'Abdullah bin 'Amr
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated `Abdullah bin `Amr:Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "The most beloved fasting to Allah was the fasting of (the Prophet) David who used to fast on alternate days. And the most beloved prayer to Allah was the prayer of David who used to sleep for (the first) half of the night and pray for 1/3 of it and (again) sleep for a sixth of it

اردو:

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے عمرو بن اوس ثقفی نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کا سب سے پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کا طریقہ تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ داؤد علیہ السلام کی نماز کا طریقہ تھا ‘ آپ آدھی رات تک سوتے اور ایک تہائی حصے میں عبادت کیا کرتے تھے ‘ پھر بقیہ چھٹے حصے میں بھی سوتے تھے۔“

Prophets Sahih Bukhari 3420 Narrated by 'Abdullah bin 'Amr
#3433 | Narrated by Mujahid
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَوَّامَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ‏{‏ص‏}‏ فَقَرَأَ ‏{‏وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ‏}‏ حَتَّى أَتَى ‏{‏فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ‏}‏ فَقَالَ نَبِيُّكُمْ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ‏.‏
Translation:

Narrated Mujahid:I asked Ibn `Abbas, "Should we perform a prostration on reciting Surat-Sa`d?" He recited (the Sura) including: 'And among his progeny, David, Solomon..(up to)...so follow their guidance (6.84-91) And then he said, "Your Prophet is amongst those people who have been ordered to follow them (i.e. the preceding apostles)

اردو:

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، کہا میں نے عوام سے سنا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان‏» تلاوت کی «فبهداهم اقتده‏» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا۔

Prophets Sahih Bukhari 3421 Narrated by Mujahid
#3434 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَيْسَ ‏{‏ص‏}‏ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِيهَا‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:The prostration in Sura-Sa`d is not amongst the compulsory prostrations, though I saw the Prophet (ﷺ) prostrating on reciting it

اردو:

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورۃ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔

Prophets Sahih Bukhari 3422 Narrated by Ibn 'Abbas
#3435 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَىَّ صَلاَتِي، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَأَخَذْتُهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي‏.‏ فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا ‏"‏‏.‏ عِفْرِيتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍّ، مِثْلُ زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِيَةُ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "A strong demon from the Jinns came to me yesterday suddenly, so as to spoil my prayer, but Allah enabled me to overpower him, and so I caught him and intended to tie him to one of the pillars of the Mosque so that all of you might see him, but I remembered the invocation of my brother Solomon: 'And grant me a kingdom such as shall not belong to any other after me.' (38.35) so I let him go cursed

اردو:

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک سرکش جن کل رات میرے سامنے آ گیا تاکہ میری نماز خراب کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں کہ تم سب لوگ بھی دیکھ سکو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی کہ یا اللہ! مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ اس لیے میں نے اسے نامراد واپس کر دیا۔ «عفريت» سرکش کے معنی میں ہے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔“

Prophets Sahih Bukhari 3423 Narrated by Abu Huraira
#3436 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَحْمِلُ كُلُّ امْرَأَةٍ فَارِسًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ‏.‏ فَلَمْ يَقُلْ، وَلَمْ تَحْمِلْ شَيْئًا إِلاَّ وَاحِدًا سَاقِطًا إِحْدَى شِقَّيْهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ قَالَهَا لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ شُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ‏"‏ تِسْعِينَ ‏"‏‏.‏ وَهْوَ أَصَحُّ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Solomon (the son of) David said, 'Tonight I will sleep with seventy ladies each of whom will conceive a child who will be a knight fighting for "Allah's Cause.' His companion said, 'If Allah will.' But Solomon did not say so; therefore none of those women got pregnant except one who gave birth to a half child." The Prophet (ﷺ) further said, "If the Prophet Solomon (ﷺ) had said it (i.e. 'If Allah will') he would have begotten children who would have fought in Allah's Cause." Shuaib and Ibn Abi Az-Zinad said, "Ninety (women) is more correct (than seventy)

اردو:

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا ان شاءاللہ، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چنانچہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سلیمان علیہ السلام ان شاءاللہ کہہ لیتے ( تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ شعیب اور ابن ابی الزناد نے بجائے ستر کے ) نوے کہا ہے اور یہی بیان زیادہ صحیح ہے۔

Prophets Sahih Bukhari 3424 Narrated by Abu Huraira
#3437 | Narrated by Abu Dharr
Sahih
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلُ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ، وَالأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Dharr:I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Which mosque was built first?" He replied, "Al-Masjid-ul-Haram." I asked, "Which (was built) next?" He replied, "Al-Masjid-ul-Aqsa (i.e. Jerusalem)." I asked, "What was the period in between them?" He replied, "Forty (years)." He then added, "Wherever the time for the prayer comes upon you, perform the prayer, for all the earth is a place of worshipping for you

اردو:

مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہو جائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔

Prophets Sahih Bukhari 3425 Narrated by Abu Dharr
#3438 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ‏.‏ وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ‏.‏ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ‏.‏ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا‏.‏ فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا‏.‏ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةُ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "My example and the example of the people is like that of a person who lit a fire and let the moths, butterflies and these insects fall in it." He also said, "There were two women, each of whom had a child with her. A wolf came and took away the child of one of them, whereupon the other said, 'It has taken your child.' The first said, 'But it has taken your child.' So they both carried the case before David who judged that the living child be given to the elder lady. So both of them went to Solomon bin David and informed him (of the case). He said, 'Bring me a knife so as to cut the child into two pieces and distribute it between them.' The younger lady said, 'May Allah be merciful to you! Don't do that, for it is her (i.e. the other lady's) child.' So he gave the child to the younger lady

اردو:

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“

Sahih Bukhari 3426 Narrated by Abu Huraira
#3439 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ‏.‏ وَقَالَتِ الأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ‏.‏ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ‏.‏ فَقَالَ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا‏.‏ فَقَالَتِ الصُّغْرَى لاَ تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا‏.‏ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلاَّ يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلاَّ الْمُدْيَةُ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "My example and the example of the people is like that of a person who lit a fire and let the moths, butterflies and these insects fall in it." He also said, "There were two women, each of whom had a child with her. A wolf came and took away the child of one of them, whereupon the other said, 'It has taken your child.' The first said, 'But it has taken your child.' So they both carried the case before David who judged that the living child be given to the elder lady. So both of them went to Solomon bin David and informed him (of the case). He said, 'Bring me a knife so as to cut the child into two pieces and distribute it between them.' The younger lady said, 'May Allah be merciful to you! Don't do that, for it is her (i.e. the other lady's) child.' So he gave the child to the younger lady

اردو:

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“

Prophets Sahih Bukhari 3427 Narrated by Abu Huraira
#3440 | Narrated by 'Abdullah
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ ‏{‏الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ قَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ ‏{‏لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ‏}‏
Translation:

Narrated `Abdullah:When the Verse:-- 'Those who believe and mix not their belief with wrong." was revealed, the companions of the Prophet (ﷺ) said, "Who amongst us has not mixed his belief with wrong?" Then Allah revealed: "Join none in worship with Allah, Verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed

اردو:

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“

Prophets Sahih Bukhari 3428 Narrated by 'Abdullah

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Prophet Muhammad?
Islam places great emphasis on Prophet Muhammad, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Prophet Muhammad?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.