Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Prophet Muhammad. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Prophet Muhammad in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Prophet Muhammad, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Prophet Muhammad and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#3401 | Narrated by `Urwa
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتِ قَوْلَهُ ‏{‏حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا‏}‏ أَوْ كُذِبُوا‏.‏ قَالَتْ بَلْ كَذَّبَهُمْ قَوْمُهُمْ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا أَنَّ قَوْمَهُمْ كَذَّبُوهُمْ وَمَا هُوَ بِالظَّنِّ‏.‏ فَقَالَتْ يَا عُرَيَّةُ، لَقَدِ اسْتَيْقَنُوا بِذَلِكَ‏.‏ قُلْتُ فَلَعَلَّهَا أَوْ كُذِبُوا‏.‏ قَالَتْ مَعَاذَ اللَّهِ، لَمْ تَكُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا وَأَمَّا هَذِهِ الآيَةُ قَالَتْ هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ الَّذِينَ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَصَدَّقُوهُمْ، وَطَالَ عَلَيْهِمُ الْبَلاَءُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَتْ مِمَّنْ كَذَّبَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، وَظَنُّوا أَنَّ أَتْبَاعَهُمْ كَذَّبُوهُمْ جَاءَهُمْ نَصْرُ اللَّهِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ‏{‏اسْتَيْأَسُوا‏}‏ افْتَعَلُوا مِنْ يَئِسْتُ‏.‏ ‏{‏مِنْهُ‏}‏ مِنْ يُوسُفَ‏.‏ ‏{‏لاَ تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ‏}‏ مَعْنَاهُ الرَّجَاءُ‏.‏
Translation:

Narrated `Urwa:I asked `Aisha the wife of the Prophet (ﷺ) about the meaning of the following Verse: -- "(Respite will be granted) 'Until when the apostles give up hope (of their people) and thought that they were denied (by their people)..............."(12.110) `Aisha replied, "Really, their nations did not believe them." I said, "By Allah! They were definite that their nations treated them as liars and it was not a matter of suspecting." `Aisha said, "O 'Uraiya (i.e. `Urwa)! No doubt, they were quite sure about it." I said, "May the Verse be read in such a way as to mean that the apostles thought that Allah did not help them?" Aisha said, "Allah forbid! (Impossible) The Apostles did not suspect their Lord of such a thing. But this Verse is concerned with the Apostles' followers who had faith in their Lord and believed in their apostles and their period of trials was long and Allah's Help was delayed till the apostles gave up hope for the conversion of the disbelievers amongst their nation and suspected that even their followers were shaken in their belief, Allah's Help then came to them

اردو:

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت کے متعلق پوچھا «حتى إذا استيأس الرسل وظنوا أنهم قد كذبوا‏» ( تشدید کے ساتھ ) ہے یا «كذبوا‏» ( بغیر تشدید کے ) یعنی یہاں تک کہ جب انبیاء ناامید ہو گئے اور انہیں خیال گزرنے لگا کہ انہیں جھٹلا دیا گیا تو اللہ کی مدد پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ( یہ تشدید کے ساتھ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ) ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر معنی کیسے بنیں گے ‘ پیغمبروں کو یقین تھا ہی کہ ان کی قوم انہیں جھٹلا رہی ہے۔ پھر قرآن میں لفظ «ظن‏.‏» گمان اور خیال کے معنی میں استعمال کیوں کیا گیا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے چھوٹے سے عروہ! بیشک ان کو تو یقین تھا میں نے کہا تو شاید اس آیت میں بغیر تشدید کے «كذبوا‏» ہو گا یعنی پیغمبر یہ سمجھے کہ اللہ نے جو ان کی مدد کا وعدہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذاللہ! انبیاء اپنے رب کے ساتھ بھلا ایسا گمان کر سکتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کے تابعدار لوگ جو اپنے مالک پر ایمان لائے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی ان پر جب مدت تک اللہ کی آزمائش رہی اور مدد آنے میں دیر ہوئی اور پیغمبر لوگ اپنی قوم کے جھٹلانے والوں سے ناامید ہو گئے ( سمجھے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیں گے ) اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ جو لوگ ان کے تابعدار بنے ہیں وہ بھی ان کو جھوٹا سمجھنے لگیں گے ‘ اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ «استيأسوا‏»،‏‏‏‏ «افتعلوا» کے وزن پر ہے جو «يئست‏.‏ ‏منه‏» سے نکلا ہے۔ «اى من يوسف‏.‏» ( سورۃ یوسف کی آیت کا ایک جملہ ہے یعنی زلیخا یوسف علیہ السلام سے ناامید ہو گئی۔ ) «لا تيأسوا من روح الله‏» » ‏‏‏‏ ( سورۃ یوسف: 87 ) یعنی اللہ سے امید رکھو ناامید نہ ہو۔

Prophets Sahih Bukhari 3389 Narrated by `Urwa
#3402 | Narrated by Ibn 'Umar
Sahih
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمِ السَّلاَمُ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Umar:The Prophet (ﷺ) said, "The honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, the son of the honorable, (was) Joseph, the son of Jacob, the son of Isaac, the son of Abraham

اردو:

مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔“

Prophets Sahih Bukhari 3390 Narrated by Ibn 'Umar
#3403 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَى رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لاَ غِنَى لِي عَنْ بَرَكَتِكَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "While Job was naked, taking a bath, a swarm of gold locusts fell on him and he started collecting them in his garment. His Lord called him, 'O Job! Have I not made you rich enough to need what you see? He said, 'Yes, O Lord! But I cannot dispense with your Blessing

اردو:

مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گرنے لگیں۔ وہ ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے۔ ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ اے ایوب! جو کچھ تم دیکھ رہے ہو ( سونے کی ٹڈیاں ) کیا میں نے تمہیں اس سے بےپروا نہیں کر دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ صحیح ہے ‘ اے رب العزت! لیکن تیری برکت سے میں کس طرح بےپروا ہو سکتا ہوں۔“

Prophets Sahih Bukhari 3391 Narrated by Abu Huraira
#3404 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها فَرَجَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ رَجُلاً تَنَصَّرَ يَقْرَأُ الإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ‏.‏ فَقَالَ وَرَقَةُ مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ‏.‏ فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى، وَإِنْ أَدْرَكَنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا‏.‏ النَّامُوسُ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي يُطْلِعُهُ بِمَا يَسْتُرُهُ عَنْ غَيْرِهِ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) returned to Khadija while his heart was beating rapidly. She took him to Waraqa bin Naufal who was a Christian convert and used to read the Gospels in Arabic Waraqa asked (the Prophet), "What do you see?" When he told him, Waraqa said, "That is the same angel whom Allah sent to the Prophet) Moses. Should I live till you receive the Divine Message, I will support you strongly

اردو:

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( غار حراء سے ) ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھڑک رہا تھا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، وہ نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں پڑھتے تھے۔ ورقہ نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہی ہیں وہ «ناموس» جنہیں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور اگر میں تمہارے زمانے تک زندہ رہا تو میں تمہاری پوری مدد کروں گا۔ «ناموس» محرم راز کو کہتے ہیں جو ایسے راز سے بھی آگاہ ہو جو آدمی دوسروں سے چھپائے۔

Prophets Sahih Bukhari 3392 Narrated by 'Aisha
#3405 | Narrated by Malik bin Sasaa
Sahih
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، فَإِذَا هَارُونُ قَالَ هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ‏.‏ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ‏.‏ تَابَعَهُ ثَابِتٌ وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Translation:

Narrated Malik bin Sasaa:Allah's Messenger (ﷺ) talked to his companions about his Night Journey to the Heavens. When he reached the fifth Heaven, he met Aaron. (Gabriel said to the Prophet), "This is Aaron." The Prophet (ﷺ) said, "Gabriel greeted and so did I, and he returned the greeting saying, 'Welcome, O Pious Brother and Pious Prophet

اردو:

ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔

Prophets Sahih Bukhari 3393 Narrated by Malik bin Sasaa
#3406 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ‏ "‏ رَأَيْتُ مُوسَى وَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ رَجِلٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى، فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ صلى الله عليه وسلم بِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ فَقَالَ اشْرَبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ‏.‏ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقِيلَ أَخَذْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "On the night of my Ascension to Heaven, I saw (the prophet) Moses who was a thin person with lank hair, looking like one of the men of the tribe of Shanua; and I saw Jesus who was of average height with red face as if he had just come out of a bathroom. And I resemble prophet Abraham more than any of his offspring does. Then I was given two cups, one containing milk and the other wine. Gabriel said, 'Drink whichever you like.' I took the milk and drank it. Gabriel said, 'You have accepted what is natural, (True Religion i.e. Islam) and if you had taken the wine, your followers would have gone astray

اردو:

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی کیفیت بیان کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ ایک دبلے پتلے سیدھے بالوں والے آدمی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبیلہ شنوہ میں سے ہوں اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا ‘ وہ میانہ قد اور نہایت سرخ و سفید رنگ والے تھے۔ ایسے تروتازہ اور پاک و صاف کہ معلوم ہوتا تھا کہ ابھی غسل خانہ سے نکلے ہیں اور میں ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد میں سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ( دودھ آدمی کی پیدائشی غذا ہے ) اگر اس کے بجائے آپ نے شراب پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

Prophets Sahih Bukhari 3394 Narrated by Abu Huraira
#3407 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ ـ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏‏.‏ وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ‏.‏ وَذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ‏"‏‏.‏ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "One should not say that I am better than Jonah (i.e. Yunus) bin Matta." So, he mentioned his father Matta. The Prophet (ﷺ) mentioned the night of his Ascension and said, "The prophet Moses was brown, a tall person as if from the people of the tribe of Shanu'a. Jesus was a curly-haired man of moderate height." He also mentioned Malik, the gate-keeper of the (Hell) Fire, and Ad-Dajjal

Sahih Bukhari 3395 Narrated by Ibn 'Abbas
#3408 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ، نَبِيِّكُمْ ـ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ‏"‏‏.‏ وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ‏.‏ وَذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ ‏"‏ مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ ‏"‏‏.‏ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "One should not say that I am better than Jonah (i.e. Yunus) bin Matta." So, he mentioned his father Matta. The Prophet (ﷺ) mentioned the night of his Ascension and said, "The prophet Moses was brown, a tall person as if from the people of the tribe of Shanu'a. Jesus was a curly-haired man of moderate height." He also mentioned Malik, the gate-keeper of the (Hell) Fire, and Ad-Dajjal

Prophets Sahih Bukhari 3396 Narrated by Ibn 'Abbas
#3409 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَوْمًا، يَعْنِي عَاشُورَاءَ، فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، وَهْوَ يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:When the Prophet (ﷺ) came to Medina, he found (the Jews) fasting on the day of 'Ashura' (i.e. 10th of Muharram). They used to say: "This is a great day on which Allah saved Moses and drowned the folk of Pharaoh. Moses observed the fast on this day, as a sign of gratitude to Allah." The Prophet (ﷺ) said, "I am closer to Moses than they." So, he observed the fast (on that day) and ordered the Muslims to fast on it

اردو:

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر کے صاحبزادے (عبداللہ) نے اپنے والد سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ ایک دن یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں ( یہودیوں ) نے بتایا کہ یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی اور آل فرعون کو غرق کیا تھا۔ اس کے شکر میں موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کا ان سے زیادہ قریب ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھنا شروع کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا۔

Prophets Sahih Bukhari 3397 Narrated by Ibn 'Abbas
#3410 | Narrated by Abu Sa`id
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ النَّاسُ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Sa`id:The Prophet (ﷺ) said, 'People will be struck unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to regain consciousness, and behold! There I will see Moses holding one of the pillars of Allah's Throne. I will wonder whether he has become conscious before me, or if he has been exempted because of his unconsciousness at the Tur (mountain) which he received (on the earth)

اردو:

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے ان کے والد یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے ‘ پھر سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے پایوں میں سے ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا ( بیہوش ہی نہیں کئے گئے ہوں گے بلکہ ) انہیں کوہ طور کی بے ہوشی کا بدلہ ملا ہو گا۔“

Prophets Sahih Bukhari 3398 Narrated by Abu Sa`id

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Prophet Muhammad?
Islam places great emphasis on Prophet Muhammad, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Prophet Muhammad?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.