Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Miserliness. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Miserliness in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Miserliness, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Miserliness and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#1 | Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ يَسْقِي بِهَا النَّخْلَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ـ فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ ـ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ‏.‏ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ إِلَى الْجَدْرِ ‏"‏‏.‏ وَاسْتَوْعَى لَهُ حَقَّهُ‏.‏ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ ‏{‏َلاَ وَرَبِّكِ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ‏}‏‏.‏ قَالَ لِي ابْنُ شِهَابٍ فَقَدَّرَتِ الأَنْصَارُ وَالنَّاسُ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ‏.‏
Translation:

Narrated `Urwa bin Az-Zubair:An Ansari man quarreled with Az-Zubair about a canal in the Harra which was used for irrigating date-palms. Allah's Messenger (ﷺ), ordering Zubair to be moderate, said, "O Zubair! Irrigate (your land) first and then leave the water for your neighbor." The Ansari said, "Is it because he is your aunt's son?" On that the color of the face of Allah's Messenger (ﷺ) changed and he said, "O Zubair! Irrigate (your land) and withhold the water till it reaches the walls that are between the pits around the trees." So, Allah's Apostle gave Zubair his full right. Zubair said, "By Allah, the following verse was revealed in that connection": "But no, by your Lord They can have No faith Until they make you judge In all disputes between them." (4.65) (The sub-narrator,) Ibn Shihab said to Juraij (another sub-narrator), "The Ansar and the other people interpreted the saying of the Prophet, 'Irrigate (your land) and withhold the water till it reaches the walls between the pits around the trees,' as meaning up to the ankles

اردو:

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد نے خبر دی کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے ندی کے بارے میں جس سے کھجوروں کے باغ سیراب ہوا کرتے تھے، جھگڑا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر! تم سیراب کر لو۔ پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلد پانی چھوڑ دینا۔ اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جی ہاں! آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے زبیر! تم سیراب کرو، یہاں تک کہ پانی کھیت کی مینڈوں تک پہنچ جائے۔ اس طرح آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قسم اللہ کی یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی «لا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! اس وقت تک یہ ایمان والے نہیں ہوں گے جب تک اپنے جملہ اختلافات میں آپ کو حکم نہ تسلیم کر لیں۔“ ابن شہاب نے کہا کہ انصار اور تمام لوگوں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ ”سیراب کرو اور پھر اس وقت تک رک جاؤ، جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے۔“ ایک اندازہ لگا لیا، یعنی پانی ٹخنوں تک بھر جائے۔

Distribution of Water Sahih Bukhari 2362 Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair
#2 | Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجٍ مِنَ الْحَرَّةِ كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلاَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ ‏"‏‏.‏ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ آنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَبْلُغَ الْجَدْرَ ‏"‏‏.‏ فَاسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَئِذٍ حَقَّهُ لِلزُّبَيْرِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْىٍ سَعَةٍ لَهُ وَلِلأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ الأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَوْعَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ إِلاَّ فِي ذَلِكَ ‏{‏فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Translation:

Narrated `Urwa bin Az-Zubair:Az-Zubair told me that he quarreled with an Ansari man who had participated in (the battle of) Badr in front of Allah's Messenger (ﷺ) about a water stream which both of them used for irrigation. Allah's Messenger (ﷺ) said to Az-Zubair, "O Zubair! Irrigate (your garden) first, and then let the water flow to your neighbor." The Ansari became angry and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Is it because he is your cousin?" On that the complexion of Allah's Messenger (ﷺ) changed (because of anger) and said (to Az-Zubair), "Irrigate (your garden) and then withhold the water till it reaches the walls (surrounding the palms)." So, Allah's Messenger (ﷺ) gave Az-Zubair his full right. Before that Allah's Messenger (ﷺ) had given a generous judgment beneficial for Az-Zubair and the Ansari, but when the Ansari irritated Allah's Messenger (ﷺ) he gave Az-Zubair his full right according to the evident law. Az-Zubair said, "By Allah ! I think the following Verse was revealed concerning that case: "But no by your Lord They can have No faith Until they make you judge In all disputes between them

اردو:

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ان میں اور ایک انصاری صحابی میں جو بدر کی لڑائی میں بھی شریک تھے، مدینہ کی پتھریلی زمین کی نالی کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ وہ اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ دونوں حضرات اس نالے سے ( اپنے باغ ) سیراب کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زبیر! تم پہلے سیراب کر لو، پھر اپنے پڑوسی کو بھی سیراب کرنے دو، اس پر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہا، یا رسول اللہ! اس وجہ سے کہ یہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے زبیر! تم سیراب کرو اور پانی کو ( اپنے باغ میں ) اتنی دیر تک آنے دو کہ دیوار تک چڑھ جائے۔ اس مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق عطا فرمایا، اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فیصلہ کیا تھا، جس میں زبیر رضی اللہ عنہ اور انصاری صحابی دونوں کی رعایت تھی۔ لیکن جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو قانون کے مطابق پورا حق عطا فرمایا۔ عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» اسی واقعہ پر نازل ہوئی تھی ”پس ہرگز نہیں! تیرے رب کی قسم، یہ لوگ اس وقت تک مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے اختلافات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو دل و جان سے تسلیم نہ کر لیں“۔

Peacemaking Sahih Bukhari 2708 Narrated by 'Urwa bin Az-Zubair

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Miserliness?
Islam places great emphasis on Miserliness, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Miserliness?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.