Overview

Iman (Faith) is the foundation of Islamic belief, encompassing belief in Allah, His Angels, His Books, His Messengers, the Day of Judgment, and divine decree. The Prophet ﷺ defined Iman through the famous Hadith of Jibreel as believing in Allah, His angels, His books, His messengers, the Last Day, and predestination. Authentic hadiths reveal that Iman has over sixty branches, with the highest being the testimony of faith and the lowest being removing harm from the road.

Key Lessons

Faith is not static — it increases with obedience and decreases with sin. A believer must continually renew and strengthen their Iman through dhikr, knowledge, and righteous deeds. The concept of Iman also encompasses action of the heart, tongue, and limbs.

Practical Guidance

Strengthen your faith by learning the six pillars of Iman deeply, attending Islamic circles, reading Quran daily, and making dua for firm faith (thabaat). Recite "Allahumma thabbit qalbi ala dinik" regularly. Avoid sins that weaken faith and seek repentance immediately.

Quranic Context

""
—
""
—
""
—

Advanced Filters

#1911 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَىِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:My friend (the Prophet (ﷺ) ) advised me to observe three things: (1) to fast three days a month; (2) to pray two rak`at of Duha prayer (forenoon prayer); and (3) to pray witr before sleeping

اردو:

ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔

Fasting Sahih Bukhari 1981 Narrated by Abu Huraira
#1912 | Narrated by Anas
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ ـ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ـ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، قَالَ ‏"‏ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ ‏"‏ مَا هِيَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ‏.‏ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلاَ دُنْيَا إِلاَّ دَعَا لِي بِهِ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالاً وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ ‏"‏‏.‏ فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الأَنْصَارِ مَالاً‏.‏ وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Translation:

Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) paid a visit to Um-Sulaim and she placed before him dates and ghee. The Prophet (ﷺ) said, "Replace the ghee and dates in their respective containers for I am fasting." Then he stood somewhere in her house and offered an optional prayer and then he invoked good on Um-Sulaim and her family. Then Um-Sulaim said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have a special request (today)." He said, "What is it?" She replied, "(Please invoke for) your servant Anas." So Allah's Messenger (ﷺ) did not leave anything good in the world or the Hereafter which he did not invoke (Allah to bestow) on me and said, "O Allah! Give him (i.e. Anas) property and children and bless him." Thus I am one of the richest among the Ansar and my daughter Umaina told me that when Al-Hajjaj came to Basra, more than 120 of my offspring had been buried

اردو:

ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔

Fasting Sahih Bukhari 1982 Narrated by Anas
#1913 | Narrated by Mutarrif from `Imran Ibn Husain
Sahih
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلاَنَ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ أَنَّهُ سَأَلَهُ ـ أَوْ سَأَلَ رَجُلاً وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ ـ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا فُلاَنٍ أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ ‏"‏‏.‏ لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ثَابِثٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Mutarrif from `Imran Ibn Husain:That the Prophet (ﷺ) asked him (Imran) or asked a man and `Imran was listening, "O Abu so-and-so! Have you fasted the last days of this month?" (The narrator thought that he said, "the month of Ramadan"). The man replied, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said to him, "When you finish your fasting (of Ramadan) fast two days (in Shawwal)." Through another series of narrators `Imran said, "The Prophet (ﷺ) said, '(Have you fasted) the last days of Sha'ban?

اردو:

ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔

Fasting Sahih Bukhari 1983 Narrated by Mutarrif from `Imran Ibn Husain
#1914 | Narrated by Muhammad bin `Abbas
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ أَنْ يَنْفَرِدَ بِصَوْمٍ‏.‏
Translation:

Narrated Muhammad bin `Abbas:I asked Jabir "Did the Prophet (ﷺ) forbid fasting on Fridays?" He replied, "Yes." (Other narrators added, "If he intends to fast only that day)

اردو:

ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی ( ایک جمعہ ہی کے دن ) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔

Fasting Sahih Bukhari 1984 Narrated by Muhammad bin `Abbas
#1915 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلاَّ يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:I heard the Prophet (ﷺ) saying, "None of you should fast on Friday unless he fasts a day before or after it

اردو:

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔

Fasting Sahih Bukhari 1985 Narrated by Abu Huraira
#1916 | Narrated by Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، ح‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهْىَ صَائِمَةٌ فَقَالَ ‏"‏ أَصُمْتِ أَمْسِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ‏"‏‏.‏ قَالَتْ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَفْطِرِي ‏"‏‏.‏ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ سَمِعَ قَتَادَةَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ
Translation:

Narrated Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith:The Prophet (ﷺ) visited her (Juwairiya) on a Friday and she was fasting. He asked her, "Did you fast yesterday?" She said, "No." He said, "Do you intend to fast tomorrow?" She said, "No." He said, "Then break your fast." Through another series of narrators, Abu Aiyub is reported to have said, "He ordered her and she broke her fast

اردو:

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔

Fasting Sahih Bukhari 1986 Narrated by Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith
#1917 | Narrated by 'Alqama
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْتَصُّ مِنَ الأَيَّامِ شَيْئًا قَالَتْ لاَ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُطِيقُ
Translation:

Narrated Alqama:I asked `Aisha "Did Allah's Apostle, use to choose some special days (for fasting)?" She replied, "No, but he used to be regular (constant) (in his service of worshipping). Who amongst you can endure what Allah's Messenger (ﷺ) used to endure?

اردو:

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روزہ وغیرہ عبادات کے لیے ) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو؟

Fasting Sahih Bukhari 1987 Narrated by 'Alqama
#1918 | Narrated by Um Al-Fadl bint Al Harith
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ أُمَّ، الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهْوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ‏.‏
Translation:

Narrated Um Al-Fadl bint Al-Harith:"While the people were with me on the day of `Arafat they differed as to whether the Prophet (ﷺ) was fasting or not; some said that he was fasting while others said that he was not fasting. So, I sent to him a bowl full of milk while he was riding over his camel and he drank it

اردو:

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ( تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے ) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ نے دودھ پی لیا۔

Fasting Sahih Bukhari 1988 Narrated by Um Al-Fadl bint Al Harith
#1919 | Narrated by Maimuna
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ـ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ ـ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّاسَ، شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلاَبٍ وَهْوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ‏.‏
Translation:

Narrated Maimuna:The people doubted whether the Prophet (ﷺ) was fasting on the day of `Arafat or not, so I sent milk while he was standing at `Arafat, he drank it and the people were looking at him

اردو:

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، (یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی) ۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔

Fasting Sahih Bukhari 1989 Narrated by Maimuna
#1920 | Narrated by Abu `Ubaid
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدْ أَصَابَ
Translation:

Narrated Abu `Ubaid:(the slave of Ibn Azhar) I witnessed the `Id with `Umar bin Al-Khattab who said, Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden people to fast on the day on which you break fasting (the fasts of Ramadan) and the day on which you eat the meat of your sacrifices (the first day of `Id ul Fitr and `Id ul-Adha)

اردو:

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عیدالفطر ) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ( یعنی عید الاضحی کا دن ) ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔ ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے ) ۔

Fasting Sahih Bukhari 1990 Narrated by Abu `Ubaid

Frequently Asked Questions

What are the six pillars of Iman?
Belief in Allah, His Angels, His Books, His Messengers, the Day of Judgment, and divine decree (Qadar) — both good and bad.
Can Iman increase and decrease?
Yes. According to authentic hadiths and scholarly consensus, Iman increases with obedience and good deeds, and decreases with sins and heedlessness.
What is the difference between Iman and Islam?
Islam refers to outward submission (the five pillars), while Iman refers to inner belief. Ihsan is the highest level — worshipping Allah as if you see Him.