Business & Trade Hadiths
Explore authentic hadiths concerning Business — uncovering its importance and practical applications in Islamic teachings.
Overview
Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Business. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Business in Islam.
Key Lessons
Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Business, and implementing its teachings in our interactions.
Practical Guidance
Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Business and seeking knowledge to avoid common pitfalls.
Quranic Context
Advanced Filters
Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakra:that his father said, "The Prophet (ﷺ) forbade the selling of gold for gold and silver for silver except if they are equivalent in weight, and allowed us to sell gold for silver and vice versa as we wished
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عوام نے، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ابی اسحٰق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے ان کے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، چاندی کے بدلے میں اور سونا سونے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔ البتہ سونا چاندی کے بدلے میں جس طرح چاہیں خریدیں۔ اسی طرح چاندی سونے کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell fruits of dates until they become free from all the dangers of being spoilt or blighted; and do not sell fresh dates for dry dates." Narrated Salim and `Abdullah from Zaid bin Thabit: "Later on Allah's Messenger (ﷺ) permitted the selling of ripe fruits on trees for fresh dates or dried dates in Bai'-al-'Araya, and did not allow it for any other kind of sale
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzabana; and Muzabana means the selling of fresh dates (on the trees) for dried dates by measure and also the selling of fresh grapes for dried grapes by measure
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzabana and Muhaqala; and Muzabana means the selling of ripe dates for dates still on the trees
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔
Narrated Jabir:The Prophet (ﷺ) forbade the selling of fruits unless they get ripe, and none of them should be sold except for Dinar or Dirham (i.e. money), except the 'Araya trees (the dates of which could be sold for dates)
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز ( سوکھے پھل ) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔
Narrated Sahl bin Abu Hathma:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the selling of fruits (fresh dates) for dried dates but allowed the sale of fruits on the 'Araya by estimation and their new owners might eat their dates fresh. Sufyan (in another narration) said, "I told Yahya (a sub-narrator) when I was a mere boy, 'Meccans say that the Prophet (ﷺ) allowed them the sale of the fruits on 'Araya by estimation.' Yahya asked, 'How do the Meccans know about it?' I replied, 'They narrated it (from the Prophet (ﷺ) ) through Jabir.' On that, Yahya kept quiet." Sufyan said, "I meant that Jabir belonged to Medina." Sufyan was asked whether in Jabir's narration there was any prohibition of selling fruits before their benefit is evident (i.e. no dangers of being spoilt or blighted). He replied that there was none
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔
Zaid bin Thabit (ra) said, "In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), the people used to trade with fruits. When they cut their date-fruits and the purchasers came to recieve their rights, the seller would say, 'My dates have got rotten, they are blighted with disease, they are afflicted with Qusham (a disease which causes the fruit to fall before ripening).' They would go on complaining of defects in their purchases. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell the fruits before their benefit is evident (i.e. free from all the dangers of being spoiled or blighted), by way of advice for they quarrelled too much." Kharija bin Zaid bin Thabit said that Zaid bin Thabit (ra) used not to sell the fruits of his land till Pleiades appeared and one could distinguish the yellow fruits from the red (ripe) ones
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔