Quran Hadiths
Explore authentic hadiths concerning Quran — uncovering its importance and practical applications in Islamic teachings.
Overview
Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Quran. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Quran in Islam.
Key Lessons
Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Quran, and implementing its teachings in our interactions.
Practical Guidance
Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Quran and seeking knowledge to avoid common pitfalls.
Quranic Context
Advanced Filters
Narrated Abu Ma`mar:We said to Khabbab "Did Allah's Messenger (ﷺ) used to recite in Zuhr and `Asr prayers?" He replied in the affirmative. We said, "How did you come to know about it?" He said, "By the movement of his beard
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے اعمش سے بیان کیا، وہ عمارہ بن عمیر سے، وہ ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ہم نے پوچھا کہ آپ کو معلوم کس طرح ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کے ہلنے سے۔
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada:My father said, "The Prophet (ﷺ) used to recite Al-Fatiha along with another Sura in the first two rak`at of the Zuhr and `Asr prayers. A verse or so was audible at times and he used to prolong the first rak`a
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا، وہ اپنے والد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو پہلی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورۃ پڑھتے تھے۔ کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیا کرتے تھے۔ پہلی رکعت میں قرآت زیادہ طویل کرتے تھے۔
Narrated Abu Huraira:Once the Prophet (ﷺ) entered the mosque, a man came in, offered the prayer and greeted the Prophet. The Prophet returned his greeting and said to him, "Go back and pray again for you have not prayed." The man offered the prayer again, came back and greeted the Prophet. He said to him thrice, "Go back and pray again for you have not prayed." The man said, "By Him Who has sent you with the truth! I do not know a better way of praying. Kindly teach Me how to pray." He said, "When you stand for the prayer, say Takbir and then recite from the Qur'an what you know and then bow with calmness till you feel at ease, then rise from bowing till you stand straight. Afterwards prostrate calmly till you feel at ease and then raise (your head) and sit with Calmness till you feel at ease and then prostrate with calmness till you feel at ease in prostration and do the same in the whole of your prayer
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز کے بعد اس نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ چنانچہ اس نے دوبارہ نماز پڑھی اور واپس آ کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ دوبارہ جا کر نماز پڑھ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا۔ میں تو اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے آپ مجھے سکھلائیے۔ آپ نے فرمایا جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو ( پہلے ) تکبیر کہہ پھر قرآن مجید سے جو کچھ تجھ سے ہو سکے پڑھ، اس کے بعد رکوع کر اور پوری طرح رکوع میں چلا جا۔ پھر سر اٹھا اور پوری طرح کھڑا ہو جا۔ پھر جب تو سجدہ کرے تو پوری طرح سجدہ میں چلا جا۔ پھر ( سجدہ سے ) سر اٹھا کر اچھی طرح بیٹھ جا۔ دوبارہ بھی اسی طرح سجدہ کر۔ یہی طریقہ نماز کے تمام ( رکعتوں میں ) اختیار کر۔
Narrated Abu Salama:Abu Hurairah said, "No doubt, my Salat is similar to that of the Prophet (ﷺ)." Abu Hurairah used to recite Qunut after saying Sami' Allahu liman hamida in the last Rak'a of the Zuhr, Isha and Fajr Prayers. He would ask Allah's Forgiveness for the true believers and curse the disbelievers
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام دستوائی سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ لو میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب قریب کر دوں گا۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ظہر، عشاء اور صبح کی آخری رکعات میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ «سمع الله لمن حمده» کے بعد۔ یعنی مومنین کے حق میں دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے۔
Narrated Anas:The qunut [supplication before going down for prostration] used to be recited in the Maghrib and the Fajr prayers
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن حذاء سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ (عبداللہ بن زید) سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ دعا قنوت فجر اور مغرب کی نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔
Narrated Aiyub:Abu Qilaba said, "Malik bin Huwairith used to demonstrate to us the prayer of the Prophet (ﷺ) at times other than that of the compulsory prayers. So (once) he stood up for prayer and performed a perfect Qiyam (standing and reciting from the Holy Qur'an) and then bowed and performed bowing perfectly; then he raised his head and stood straight for a while." Abu Qilaba added, "Malik bin Huwairith in that demonstration prayed like this Sheikh of ours, Abu Yazid." Abu Yazid used to sit (for a while) on raising his head from the second prostration before getting up
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمیں ( نماز پڑھ کر ) دکھلاتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے اور یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ( ایک مرتبہ ) کھڑے ہوئے اور پوری طرح کھڑے رہے۔ پھر جب رکوع کیا اور پوری طمانیت کے ساتھ سر اٹھایا تب بھی تھوڑی دیر سیدھے کھڑے رہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے اس شیخ ابویزید کی طرح نماز پڑھائی۔ ابویزید جب دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو پہلے اچھی طرح بیٹھ لیتے پھر کھڑے ہوتے۔
Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) used to say frequently in his bowing and prostrations "Subhanaka l-lahumma Rabbana wa bihamdika, Allahumma ghfir li" (Exalted [from unbecoming attributes] Are you O Allah our Lord, and by Your praise [do I exalt you]. O Allah! Forgive me). In this way [??] he was acting on what was explained to him in the Holy Qur'an
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے مسلم بن صبیح سے بیان کیا، انہوں نے مسروق سے، ان سے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے۔ «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ( اس دعا کو پڑھ کر ) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔
Narrated Shaqiq bin Salama:`Abdullah said, "Whenever we prayed behind the Prophet (ﷺ) we used to recite (in sitting) 'Peace be on Gabriel, Michael, peace be on so and so. Once Allah's Messenger (ﷺ) looked back at us and said, 'Allah Himself is As-Salam (Peace), and if anyone of you prays then he should say, at-Tahiyatu li l-lahi wa ssalawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alalika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. Assalamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (All the compliments, prayers and good things are due to Allah; peace be on you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings [be on you]. Peace be on us an on the pious subjects of Allah). (If you say that, it will reach all the subjects in the heaven and the earth). Ash-hadu al-la ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh. (I testify that there is no Deity [worthy of worship] but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Apostle
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو کہتے ( ترجمہ ) سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو فلاں اور فلاں پر ( اللہ پر سلام ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تو خود ”سلام“ ہے۔ ( تم اللہ کو کیا سلام کرتے ہو ) اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یہ کہے «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» تمام آداب بندگی، تمام عبادات اور تمام بہترین تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ آپ پر سلام ہو اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہم پر سلام اور اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام۔ جب تم یہ کہو گے تو تمہارا سلام آسمان و زمین میں جہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے اس کو پہنچ جائے گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔
Narrated `Abdullah:When we prayed with the Prophet (ﷺ) we used to say, "Peace be on Allah from His slaves and peace be on so and so." The Prophet (ﷺ) said, "Don't say As-Salam be on Allah, for He Himself is As-Salam, but say, at-tahiyatu li l-lahi wa s-salawatu wa t-taiyibat. As-salamu `alaika aiyuha n-Nabiyu wa rahmatu l-lahi wa barakatuh. As-salamu `alaina wa `ala `ibadi l-lahi s-salihin. (If you say this then it will reach all the slaves in heaven or between heaven and earth). Ash-hadu al la-ilaha illa l-lah, wa ash-hadu anna Muhammadan `Abduhu wa Rasuluh.' Then select the invocation you like best and recite it." (See Hadith No)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ ( پہلے ) جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم ( قعدہ میں ) یہ کہا کرتے تھے کہ اس کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو اور فلاں پر اور فلاں پر سلام ہو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ ”اللہ پر سلام ہو“ کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے۔ بلکہ یہ کہو «التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» آداب بندگان اور تمام عبادات اور تمام پاکیزہ خیراتیں اللہ ہی کے لیے ہیں آپ پر اے نبی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو اور جب تم یہ کہو گے تو آسمان پر اللہ کے تمام بندوں کو پہنچے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان اور زمین کے درمیان تمام بندوں کو پہنچے گا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد دعا کا اختیار ہے جو اسے پسند ہو کرے۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever eats garlic or onion should keep away from our mosque or should remain in his house." (Jabir bin `Abdullah, in another narration said, "Once a big pot containing cooked vegetables was brought. On finding unpleasant smell coming from it, the Prophet (ﷺ) asked, 'What is in it?' He was told all the names of the vegetables that were in it. The Prophet (ﷺ) ordered that it should be brought near to some of his companions who were with him. When the Prophet (ﷺ) saw it he disliked to eat it and said, 'Eat. (I don't eat) for I converse with those whom you don't converse with (i.e. the angels)
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ عطاء جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے ہوئے ہو تو وہ ہم سے دور رہے یا ( یہ کہا کہ اسے ) ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں۔ ( پیاز یا گندنا بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا۔ اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالیں گئی تھیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگ کھا لو۔ میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے یوں نقل کیا کہ تھال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تھی۔ ابن وہب نے کہا کہ طبق جس میں ہری ترکاریاں تھیں اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے روایت میں ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ( یا سعید یا ابن وہب نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ خود زہری کا قول ہے یا حدیث میں داخل ہے۔