Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Dua. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Dua in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Dua, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Dua and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#31 | Narrated by `Abbad bin Tamim
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، أَنَّ عَمَّهُ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي لَهُمْ، فَقَامَ فَدَعَا اللَّهَ قَائِمًا، ثُمَّ تَوَجَّهَ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَأُسْقُوا‏.‏
Translation:

Narrated `Abbad bin Tamim:that his uncle (who was one of the companions of the Prophet) had told him, "The Prophet (ﷺ) went out with the people to invoke Allah for rain for them. He stood up and invoked Allah for rain, then faced the Qibla and turned his cloak (inside out) and it rained

اردو:

ہم سے ابوالیمان حکیم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ ان کے چچا عبداللہ بن زید نے جو صحابی تھے، انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر استسقاء کے لیے نکلے اور آپ کھڑے ہوئے اور کھڑے ہی کھڑے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی چادر پلٹی چنانچہ بارش خوب ہوئی۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1023 Narrated by `Abbad bin Tamim
#32 | Narrated by `Abbad bin Tamim
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي فَتَوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ يَدْعُو، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ‏.‏
Translation:

Narrated `Abbad bin Tamim:from his uncle who said, "The Prophet (ﷺ) went out to invoke Allah for rain. He faced the Qibla invoking Allah. He turned over his cloak (inside out) and then offered two rak`at and recited the Qur'an aloud in them

اردو:

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے ان کے چچا (عبداللہ بن زید) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے باہر نکلے تو قبلہ رو ہو کر دعا کی۔ پھر اپنی چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت بلند آواز سے کی۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1024 Narrated by `Abbad bin Tamim
#33 | Narrated by `Abbad bin Tamim from his uncle who said
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ‏.‏
Translation:

Narrated `Abbad bin Tamim from his uncle who said:"The Prophet (ﷺ) invoked Allah for rain and offered a two rak`at prayer and he put his cloak inside out

اردو:

مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے استسقاء کی تو دو رکعت نماز پڑھی اور چادر پلٹی۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1026 Narrated by `Abbad bin Tamim from his uncle who said
#34 | Narrated by `Abdullah bin Zaid Al-Ansari
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلِّي، وَأَنَّهُ لَمَّا دَعَا ـ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ ـ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ابْنُ زَيْدٍ هَذَا مَازِنِيٌّ، وَالأَوَّلُ كُوفِيٌّ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ‏.‏
Translation:

Narrated `Abdullah bin Zaid Al-Ansari:The Prophet (ﷺ) went out towards the Musalla in order to offer the Istisqa' prayer and when he intended to invoke (Allah) or started invoking, he faced the Qibla and turned his cloak inside out

اردو:

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی، کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی اور انہیں عبداللہ بن زید انصاری نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کے لیے ) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب «الدعا فی الاستسقاء» میں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبداللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1028 Narrated by `Abdullah bin Zaid Al-Ansari
#35 | Narrated by Anas bin Malik
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ، وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، قَالَ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا جَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلاَّ تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ، حَتَّى سَالَ الْوَادِي ـ وَادِي قَنَاةَ ـ شَهْرًا‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ‏.‏
Translation:

Narrated Anas bin Malik:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the people were afflicted with a (famine) year. While the Prophet was delivering the Khutba (sermon) on the pulpit on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The livestock are dying and the families (offspring) are hungry: please pray to Allah to bless us with rain." Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands towards the sky and at that time there was not a trace of cloud in the sky. Then the clouds started gathering like mountains. Before he got down from the pulpit I saw rainwater trickling down his beard. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day and till the next Friday, when the same Bedouin or some other person stood up (during the Friday Khutba) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The houses have collapsed and the livestock are drowned. Please invoke Allah for us." So Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands and said, "O Allah! Around us and not on us." Whichever side the Prophet (ﷺ) directed his hand, the clouds dispersed from there till a hole (in the clouds) was formed over Medina. The valley of Qanat remained flowing (with water) for one month and none, came from outside who didn't talk about the abundant rain

اردو:

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کرر ہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا۔ لیکن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آ گئے ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے بہہ رہا ہے۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی۔ دوسرے دن تیسرے دن، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی۔ اس طرح دوسرا جمعہ آ گیا۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( کثرت باراں سے ) عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا۔ انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کر دیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1033 Narrated by Anas bin Malik
#36 | Narrated by Abu Bakra
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلْنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا، وَادْعُوا، حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Bakra:We were with Allah's Messenger (ﷺ) when the sun eclipsed. Allah's Messenger (ﷺ) stood up dragging his cloak till he entered the Mosque. He led us in a two-rak`at prayer till the sun (eclipse) had cleared. Then the Prophet (ﷺ) said, "The sun and the moon do not eclipse because of someone's death. So whenever you see these eclipses pray and invoke (Allah) till the eclipse is over

اردو:

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے یونس سے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے یونس سے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ

Eclipses Sahih Bukhari 1040 Narrated by Abu Bakra
#37 | Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:"The sun eclipsed in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) on the day when (his son) Ibrahim died. So the people said that the sun had eclipsed because of the death of Ibrahim. Allah's Messenger (ﷺ) said, "The sun and the moon do not eclipse because of the death or life (i.e. birth) of someone. When you see the eclipse pray and invoke Allah

اردو:

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن اس دن لگا جس دن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا بعض لوگ کہنے لگے کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا۔ البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔

Eclipses Sahih Bukhari 1043 Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
#38 | Narrated by Abu Musa
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَزِعًا، يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ وَقَالَ ‏ "‏ هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Musa:The sun eclipsed and the Prophet (ﷺ) got up, being afraid that it might be the Hour (i.e. Day of Judgment). He went to the Mosque and offered the prayer with the longest Qiyam, bowing and prostration that I had ever seen him doing. Then he said, "These signs which Allah sends do not occur because of the life or death of somebody, but Allah makes His worshipers afraid by them. So when you see anything thereof, proceed to remember Allah, invoke Him and ask for His forgiveness

اردو:

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبا قیام، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے استغفار کی طرف لپکو۔

Eclipses Sahih Bukhari 1059 Narrated by Abu Musa
#39 | Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:On the day of Ibrahim's death, the sun eclipsed and the people said that the eclipse was due to the death of Ibrahim (the son of the Prophet). Allah's Messenger (ﷺ) said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah. They do not eclipse because of someone's death or life. So when you see them, invoke Allah and pray till the eclipse is clear

اردو:

ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن لگا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشان ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ جب اسے دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو اور نماز پڑھو تاآنکہ سورج صاف ہو جائے۔

Eclipses Sahih Bukhari 1060 Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
#40 | Narrated by Abu Bakra
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ، وَثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، فَانْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ‏"‏‏.‏ وَذَاكَ أَنَّ ابْنًا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ، يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَاكَ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Bakra:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the sun eclipsed and he went out dragging his clothes till he reached the Mosque. The people gathered around him and he led them and offered two rak`at. When the sun (eclipse) cleared, he said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah; they do not eclipse because of the death of someone, and so when an eclipse occurs, pray and invoke Allah till the eclipse is over." It happened that a son of the Prophet (ﷺ) called Ibrahim died on that day and the people were talking about that (saying that the eclipse was caused by his death)

اردو:

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے ( بڑی تیزی سے ) مسجد میں پہنچے۔ صحابہ بھی جمع ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن بھی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور ان میں گرہن کسی کی موت پر نہیں لگتا اس لیے جب گرہن لگے تو اس وقت تک نماز اور دعا میں مشغول رہو جب تک یہ صاف نہ ہو جائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ( اسی دن ) ہوئی تھی اور بعض لوگ ان کے متعلق کہنے لگے تھے ( کہ گرہن ان کی موت پر لگا ہے ) ۔

Eclipses Sahih Bukhari 1063 Narrated by Abu Bakra

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Dua?
Islam places great emphasis on Dua, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Dua?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.