Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Children. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Children in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Children, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Children and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#151 | Narrated by Anas bin Malik
Sahih
قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا، فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَشِقَ الْمُسَافِرُ، وَمُنِعَ الطَّرِيقُ‏.‏
Translation:

Narrated Anas bin Malik:A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) on a Friday and said, "O Allah's Messenger ! The livestock, the offspring, and the people have perished." So, Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allah's Messenger (ﷺ) invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger! The travelers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflowed

اردو:

ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی ( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1029 Narrated by Anas bin Malik
#152 | Narrated by Anas bin Malik
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا‏.‏ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ، وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، قَالَ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا جَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلاَّ تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ، حَتَّى سَالَ الْوَادِي ـ وَادِي قَنَاةَ ـ شَهْرًا‏.‏ قَالَ فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ‏.‏
Translation:

Narrated Anas bin Malik:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the people were afflicted with a (famine) year. While the Prophet was delivering the Khutba (sermon) on the pulpit on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The livestock are dying and the families (offspring) are hungry: please pray to Allah to bless us with rain." Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands towards the sky and at that time there was not a trace of cloud in the sky. Then the clouds started gathering like mountains. Before he got down from the pulpit I saw rainwater trickling down his beard. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day and till the next Friday, when the same Bedouin or some other person stood up (during the Friday Khutba) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The houses have collapsed and the livestock are drowned. Please invoke Allah for us." So Allah's Messenger (ﷺ) raised both his hands and said, "O Allah! Around us and not on us." Whichever side the Prophet (ﷺ) directed his hand, the clouds dispersed from there till a hole (in the clouds) was formed over Medina. The valley of Qanat remained flowing (with water) for one month and none, came from outside who didn't talk about the abundant rain

اردو:

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا۔ انہی دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کرر ہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا۔ لیکن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آ گئے ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے بہہ رہا ہے۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی۔ دوسرے دن تیسرے دن، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی۔ اس طرح دوسرا جمعہ آ گیا۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( کثرت باراں سے ) عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی «اللهم حوالينا ولا علينا» کہ اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا۔ انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کر دیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی۔

Invoking Allah for Rain (Istisqaa) Sahih Bukhari 1033 Narrated by Anas bin Malik
#153 | Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:"The sun eclipsed in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) on the day when (his son) Ibrahim died. So the people said that the sun had eclipsed because of the death of Ibrahim. Allah's Messenger (ﷺ) said, "The sun and the moon do not eclipse because of the death or life (i.e. birth) of someone. When you see the eclipse pray and invoke Allah

اردو:

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن اس دن لگا جس دن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا بعض لوگ کہنے لگے کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا۔ البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔

Eclipses Sahih Bukhari 1043 Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
#154 | Narrated by Fatima bint Al-Mundhir
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنِ امْرَأَتِهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ، وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ‏.‏ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ أَىْ نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي الْمَاءَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ شَىْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ ـ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ـ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ـ لاَ أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا‏.‏ فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا، فَقَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا‏.‏ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ ـ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Fatima bint Al-Mundhir:Asma' bint Abu Bakr said, "I came to `Aisha the wife of the Prophet (ﷺ) during the solar eclipse. The people were standing and offering the prayer and she was also praying too. I asked her, 'What has happened to the people?' She pointed out with her hand towards the sky and said, 'Subhan-Allah'. I said, 'Is there a sign?' She pointed out in the affirmative." Asma' further said, "I too then stood up for the prayer till I fainted and then poured water on my head. When Allah's Messenger (ﷺ) had finished his prayer, he thanked and praised Allah and said, 'I have seen at this place of mine what I have never seen even Paradise and Hell. No doubt, it has been inspired to me that you will be put to trial in the graves like or nearly like the trial of (Masih) Ad-Dajjal. (I do not know which one of the two Asma' said.) (The angels) will come to everyone of you and will ask what do you know about this man (i.e. Muhammad). The believer or a firm believer (I do not know which word Asma' said) will reply, 'He is Muhammad, Allah's Messenger (ﷺ) who came to us with clear evidences and guidance, so we accepted his teachings, believed and followed him.' The angels will then say to him, 'Sleep peacefully as we knew surely that you were a firm believer.' The hypocrite or doubtful person (I do not know which word Asma' said) will say, 'I do not know. I heard the people saying something so I said it (the same)

اردو:

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کی بیوی فاطمہ بنت منذر نے، انہیں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ جب سورج کو گرہن لگا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئی۔ اچانک لوگ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز میں شریک تھی میں نے پوچھا کہ لوگوں کو بات کیا پیش آئی؟ اس پر آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے سبحان اللہ کہا۔ پھر میں نے پوچھا کیا کوئی نشانی ہے؟ اس کا آپ نے اشارہ سے ہاں میں جواب دیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی کھڑی ہو گئی۔ لیکن مجھے چکر آ گیا اس لیے میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ وہ چیزیں جو کہ میں نے پہلے نہیں دیکھی تھیں اب انہیں میں نے اپنی اسی جگہ سے دیکھ لیا۔ جنت اور دوزخ تک میں نے دیکھی اور مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ تم قبر میں دجال کے فتنہ کی طرح یا ( یہ کہا کہ ) دجال کے فتنہ کے قریب ایک فتنہ میں مبتلا ہو گے۔ مجھے یاد نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا کہا تھا آپ نے فرمایا کہ تمہیں لایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ اس شخص ( مجھ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں تم کیا جانتے ہو۔ مومن یا یہ کہا کہ یقین کرنے والا ( مجھے یاد نہیں کہ ان دو باتوں میں سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کون سی بات کہی تھی ) تو کہے گا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے صحیح راستہ اور اس کے دلائل پیش کئے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات قبول کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا تھا۔ اس پر اس سے کہا جائے گا کہ تو مرد صالح ہے پس آرام سے سو جاؤ ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ تو ایمان و یقین والا ہے۔ منافق یا شک کرنے والا ( مجھے معلوم نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا کہا تھا ) وہ یہ کہے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی وہی میں نے بھی کہی ( آگے مجھ کو کچھ حقیقت معلوم نہیں ) ۔

Eclipses Sahih Bukhari 1053 Narrated by Fatima bint Al-Mundhir
#155 | Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba:On the day of Ibrahim's death, the sun eclipsed and the people said that the eclipse was due to the death of Ibrahim (the son of the Prophet). Allah's Messenger (ﷺ) said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah. They do not eclipse because of someone's death or life. So when you see them, invoke Allah and pray till the eclipse is clear

اردو:

ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن لگا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشان ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ جب اسے دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو اور نماز پڑھو تاآنکہ سورج صاف ہو جائے۔

Eclipses Sahih Bukhari 1060 Narrated by Al-Mughira bin Shu`ba
#156 | Narrated by Abu Bakra
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ، وَثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، فَانْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ‏"‏‏.‏ وَذَاكَ أَنَّ ابْنًا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ، يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَاكَ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Bakra:In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the sun eclipsed and he went out dragging his clothes till he reached the Mosque. The people gathered around him and he led them and offered two rak`at. When the sun (eclipse) cleared, he said, "The sun and the moon are two signs amongst the signs of Allah; they do not eclipse because of the death of someone, and so when an eclipse occurs, pray and invoke Allah till the eclipse is over." It happened that a son of the Prophet (ﷺ) called Ibrahim died on that day and the people were talking about that (saying that the eclipse was caused by his death)

اردو:

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے ( بڑی تیزی سے ) مسجد میں پہنچے۔ صحابہ بھی جمع ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن بھی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور ان میں گرہن کسی کی موت پر نہیں لگتا اس لیے جب گرہن لگے تو اس وقت تک نماز اور دعا میں مشغول رہو جب تک یہ صاف نہ ہو جائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ( اسی دن ) ہوئی تھی اور بعض لوگ ان کے متعلق کہنے لگے تھے ( کہ گرہن ان کی موت پر لگا ہے ) ۔

Eclipses Sahih Bukhari 1063 Narrated by Abu Bakra
#157 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ جَهَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ‏.‏ ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏ وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الشَّمْسَ، خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ مُنَادِيًا بِالصَّلاَةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ مِثْلَهُ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ‏.‏ قَالَ أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ‏.‏ تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْجَهْرِ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) recited (the Qur'an) aloud during the eclipse prayer and when he had finished the eclipse prayer he said the Takbir and bowed. When he stood straight from bowing he would say "Sami 'allahu liman hamidah Rabbana wa laka l-hamd." And he would again start reciting. In the eclipse prayer there are four bowing and four prostrations in two rak`at. Al-Auza'i and others said that they had heard Az-Zuhri from 'Urwa from `Aisha saying, "In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the sun eclipsed, and he made a person to announce: 'Prayer in congregation.' He led the prayer and performed four bowing and four prostrations in two rak`at." Narrated Al-Walid that `Abdur-Rahman bin Namir had informed him that he had heard the same. Ibn Shihab heard the same. Az-Zuhri said, "I asked ('Urwa), 'What did your brother `Abdullah bin Az-Zubair do? He prayed two rak`at (of the eclipse prayer) like the morning prayer, when he offered the (eclipse) prayer in Medina.' 'Urwa replied that he had missed (i.e. did not pray according to) the Prophet's tradition." Sulaiman bin Kathir and Sufyan bin Husain narrated from Az-Zuhri that the prayer for the eclipse used to be offered with loud recitation

Sahih Bukhari 1065 Narrated by 'Aisha
#158 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ، سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ جَهَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ‏.‏ ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏ وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الشَّمْسَ، خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ مُنَادِيًا بِالصَّلاَةُ جَامِعَةٌ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ‏.‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ مِثْلَهُ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ‏.‏ قَالَ أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ‏.‏ تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي الْجَهْرِ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) recited (the Qur'an) aloud during the eclipse prayer and when he had finished the eclipse prayer he said the Takbir and bowed. When he stood straight from bowing he would say "Sami 'allahu liman hamidah Rabbana wa laka l-hamd." And he would again start reciting. In the eclipse prayer there are four bowing and four prostrations in two rak`at. Al-Auza'i and others said that they had heard Az-Zuhri from 'Urwa from `Aisha saying, "In the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the sun eclipsed, and he made a person to announce: 'Prayer in congregation.' He led the prayer and performed four bowing and four prostrations in two rak`at." Narrated Al-Walid that `Abdur-Rahman bin Namir had informed him that he had heard the same. Ibn Shihab heard the same. Az-Zuhri said, "I asked ('Urwa), 'What did your brother `Abdullah bin Az-Zubair do? He prayed two rak`at (of the eclipse prayer) like the morning prayer, when he offered the (eclipse) prayer in Medina.' 'Urwa replied that he had missed (i.e. did not pray according to) the Prophet's tradition." Sulaiman bin Kathir and Sufyan bin Husain narrated from Az-Zuhri that the prayer for the eclipse used to be offered with loud recitation

Eclipses Sahih Bukhari 1066 Narrated by 'Aisha
#159 | Narrated by `Abdullah bin Buraida
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ وَكَانَ رَجُلاً مَبْسُورًا ـ وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ الرَّجُلِ وَهْوَ قَاعِدٌ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهْوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَائِمًا عِنْدِي مُضْطَجِعًا هَا هُنَا‏.‏
Translation:

Narrated `Abdullah bin Buraida:`Imran bin Husain had piles. Once Abu Ma mar narrated from `Imran bin Husain had said, "I asked the Prophet (ﷺ) about the prayer of a person while sitting. He said, 'It is better for one to pray standing; and whoever prays sitting gets half the reward of that who prays while standing; and whoever prays while Lying gets half the reward of that who prays while sitting

اردو:

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن بریدہ نے کہ عمران بن حصین نے جنہیں بواسیر کا مرض تھا۔ اور کبھی ابومعمر نے یوں کہا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر کوئی بیٹھ کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے اسے آدھا ثواب ملے گا اور لیٹ کر پڑھنے والے کو بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ میں «نائم» «مضطجع» کے معنی میں ہے یعنی لیٹ کر نماز پڑھنے والا۔

Shortening the Prayers (At-Taqseer) Sahih Bukhari 1116 Narrated by `Abdullah bin Buraida
#160 | Narrated by `Ali bin Abi Talib
Sahih
{حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ لَيْلَةً فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ تُصَلِّيَانِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا‏.‏ فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا‏.‏ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهْوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلاً‏}‏‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated `Ali bin Abi Talib:One night Allah's Messenger (ﷺ) came to me and Fatima, the daughter of the Prophet (ﷺ) and asked, "Won't you pray (at night)?" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Our souls are in the hands of Allah and if He wants us to get up He will make us get up." When I said that, he left us without saying anything and I heard that he was hitting his thigh and saying, "But man is more quarrelsome than anything

اردو:

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی، اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ ( تہجد کی ) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر ( سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے ) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ۔

Prayer at Night (Tahajjud) Sahih Bukhari 1127 Narrated by `Ali bin Abi Talib

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Children?
Islam places great emphasis on Children, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Children?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.