Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Prayer. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Prayer in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Prayer, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Prayer and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#1571 | Narrated by Abu 'Is-haq from Musa bin `Uqba from Nafi` from Ibn `Umar who said
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ‏.‏ فَقُلْتُ لِمُوسَى فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ سِتَّةُ أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ‏.‏ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، قُلْتُ فَكَمْ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِيلٌ أَوْ نَحْوُهُ‏.‏ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيهَا‏.‏
Translation:

Narrated Abu 'Is-haq from Musa bin `Uqba from Nafi` from Ibn `Umar who said:"Allah's Messenger (ﷺ) arranged a horse race amongst the horses that had been made lean, letting them start from Al-Hafya' and their limit (distance of running) was up to Thaniyat-al-Wada`. I asked Musa, 'What was the distance between the two places?' Musa replied, 'Six or seven miles. He arranged a race of the horses which had not been made lean sending them from Thaniyat-al-Wada`, and their limit was up to the mosque of Bani Zuraiq.' I asked, 'What was the distance between those two places?' He replied 'One mile or so.' Ibn `Umar was amongst those who participated in that horse race

اردو:

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی ( ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2870 Narrated by Abu 'Is-haq from Musa bin `Uqba from Nafi` from Ibn `Umar who said
#1572 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْجِهَادِ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بِهَذَا‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:the mother of the faithful believers, I requested the Prophet (ﷺ) to permit me to participate in Jihad, but he said, "Your Jihad is the performance of Hajj

اردو:

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں معاویہ ابن اسحاق نے، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2875 Narrated by 'Aisha
#1573 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، بِهَذَا‏.‏ وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سَأَلَهُ نِسَاؤُهُ عَنِ الْجِهَادِ فَقَالَ ‏ "‏ نِعْمَ الْجِهَادُ الْحَجُّ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:the mother of the faithful believers: The Prophet (ﷺ) was asked by his wives about Jihad and he replied, "The best Jihad (for you) is (the performance of) Hajj

اردو:

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث اور ابوسفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے ہے ( اس میں ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2876 Narrated by 'Aisha
#1574 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ، عَائِشَةَ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً، مِنَ الْحَدِيثِ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ يَخْرُجُ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:Whenever the Prophet (ﷺ) intended to proceed on a journey, he used to draw lots amongst his wives and would take the one upon whom the lot fell. Once, before setting out for Jihad, he drew lots amongst us and the lot came to me; so I went with the Prophet; and that happened after the revelation of the Verse of Hijab (i.e. veiling)

اردو:

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن شہاب زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی، ان چاروں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث مجھ سے تھوڑی تھوڑی بیان کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانا چاہتے ( جہاد کے لیے ) تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2879 Narrated by 'Aisha
#1575 | Narrated by Anas
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا، تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ ـ وَقَالَ غَيْرُهُ تَنْقُلاَنِ الْقِرَبَ ـ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ‏.‏
Translation:

Narrated Anas:On the day (of the battle) of Uhud when (some) people retreated and left the Prophet, I saw `Aisha bint Abu Bakr and Um Sulaim, with their robes tucked up so that the bangles around their ankles were visible hurrying with their water skins (in another narration it is said, "carrying the water skins on their backs"). Then they would pour the water in the mouths of the people, and return to fill the water skins again and come back again to pour water in the mouths of the people

اردو:

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور ( تیز چلنے کی وجہ سے ) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کر لے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2880 Narrated by Anas
#1576 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَهِرَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ قَالَ ‏"‏ لَيْتَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ‏"‏‏.‏ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلاَحٍ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، جِئْتُ لأَحْرُسَكَ‏.‏ وَنَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:The Prophet (ﷺ) was vigilant one night and when he reached Medina, he said, "Would that a pious man from my companions guard me tonight!" Suddenly we heard the clatter of arms. He said, "Who is that? " He (The new comer) replied, " I am Sa`d bin Abi Waqqas and have come to guard you." So, the Prophet (ﷺ) slept (that night)

اردو:

ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک رات ) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا!“ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”یہ کون صاحب ہیں؟“ ( آنے والے نے ) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2885 Narrated by 'Aisha
#1577 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ سُلاَمَى عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ، يُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ يُحَامِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ، وَكُلُّ خَطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلاَةِ صَدَقَةٌ، وَدَلُّ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:The Prophet (ﷺ) said, "Charity is obligatory everyday on every joint of a human being. If one helps a person in matters concerning his riding animal by helping him to ride it or by lifting his luggage on to it, all this will be regarded as charity. A good word, and every step one takes to offer the compulsory Congregational prayer, is regarded as charity; and guiding somebody on the road is regarded as charity

اردو:

ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی ( زبان سے نکالنا ) صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور ( کسی مسافر کو ) راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔“

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2891 Narrated by Abu Huraira
#1578 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ، فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ‏"‏‏.‏ وَزَادَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:While some Ethiopians were playing in the presence of the Prophet, `Umar came in, picked up a stone and hit them with it. On that the Prophet (ﷺ) said, "O `Umar! Allow them (to play)." Ma`mar (the subnarrator) added that they were playing in the Mosque

اردو:

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب ( چھوٹے نیزے ) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔“ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں ( یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے ) ۔

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2901 Narrated by Abu Huraira
#1579 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا قَالَ ‏"‏ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ وَيَقُولُ ‏"‏ دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ ‏"‏‏.‏ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ ‏"‏ حَسْبُكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي ‏"‏‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، فَلَمَّا غَفَلَ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) came to my house while two girls were singing beside me the songs of Bu'ath (a story about the war between the two tribes of the Ansar, i.e. Khazraj and Aus, before Islam.) The Prophet (ﷺ) reclined on the bed and turned his face to the other side. Abu Bakr came and scolded me and said protestingly, "Instrument of Satan in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?" Allah's Messenger (ﷺ) turned his face towards him and said, "Leave them." When Abu Bakr became inattentive, I waved the two girls to go away and they left. It was the day of `Id when negroes used to play with leather shields and spears. Either I requested Allah's Messenger (ﷺ) or he himself asked me whether I would like to see the display. I replied in the affirmative. Then he let me stand behind him and my cheek was touching his cheek and he was saying, "Carry on, O Bani Arfida (i.e. negroes)!" When I got tired, he asked me if that was enough. I replied in the affirmative and he told me to leave

Sahih Bukhari 2906 Narrated by 'Aisha
#1580 | Narrated by 'Aisha
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ دَعْهُمَا ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِمَّا قَالَ ‏"‏ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ وَيَقُولُ ‏"‏ دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ ‏"‏‏.‏ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ ‏"‏ حَسْبُكِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي ‏"‏‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، فَلَمَّا غَفَلَ‏.‏
Translation:

Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) came to my house while two girls were singing beside me the songs of Bu'ath (a story about the war between the two tribes of the Ansar, i.e. Khazraj and Aus, before Islam.) The Prophet (ﷺ) reclined on the bed and turned his face to the other side. Abu Bakr came and scolded me and said protestingly, "Instrument of Satan in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?" Allah's Messenger (ﷺ) turned his face towards him and said, "Leave them." When Abu Bakr became inattentive, I waved the two girls to go away and they left. It was the day of `Id when negroes used to play with leather shields and spears. Either I requested Allah's Messenger (ﷺ) or he himself asked me whether I would like to see the display. I replied in the affirmative. Then he let me stand behind him and my cheek was touching his cheek and he was saying, "Carry on, O Bani Arfida (i.e. negroes)!" When I got tired, he asked me if that was enough. I replied in the affirmative and he told me to leave

Fighting for the Cause of Allah (Jihaad) Sahih Bukhari 2907 Narrated by 'Aisha

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Prayer?
Islam places great emphasis on Prayer, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Prayer?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.