Islam Hadiths
Discover what the Prophet ﷺ taught about Islam — the five pillars, the best deeds, and the qualities of a true Muslim.
Overview
Islam as a topic in hadith literature focuses on the five pillars — Shahada, Salah, Zakat, Sawm, and Hajj — which form the structural foundation of Muslim practice. The famous Hadith of Jibreel defines Islam as the outward acts of worship and submission to Allah. The Prophet ﷺ described the best Islam as the act that benefits others — feeding the poor and giving salaam.
Key Lessons
Islam teaches that worship must be consistent and sincere, not merely performative. Each pillar has a distinct wisdom — Salah maintains connection with Allah five times daily, Zakat purifies wealth, Sawm disciplines the self, and Hajj demonstrates global Muslim unity.
Practical Guidance
Learn the proper way to perform each pillar from qualified teachers. Prioritize Salah above all — it is the first deed questioned on the Day of Judgment. Pay Zakat on savings held for a lunar year. Fast Ramadan with intention and avoid all that breaks it.
Quranic Context
Advanced Filters
Narrated Rafi` bin Khadij:We used to offer the Maghrib prayer with the Prophet (ﷺ) and after finishing the prayer one of us may go away and could still see as far as the spots where one's arrow might reach when shot by a bow
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنجاشی نے بیان کیا، ان کا نام عطاء بن صہیب تھا اور یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج سے سنا آپ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے ( تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) used to pray the Zuhr at midday, and the `Asr at a time when the sun was still bright, the Maghrib after sunset (at its stated time) and the `Isha at a variable time. Whenever he saw the people assembled (for `Isha' prayer) he would pray earlier and if the people delayed, he would delay the prayer. And they or the Prophet (ﷺ) used to offer the Fajr Prayers when it was still dark
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے، انہوں نے کہا کہ حجاج کا زمانہ آیا ( اور وہ نماز دیر کر کے پڑھایا کرتا تھا اس لیے ) ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے۔ ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تو نماز عصر پڑھاتے۔ نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے۔ ( اور لوگوں کا انتظار کرتے ) اور صبح کی نماز صحابہ رضی اللہ عنہم یا ( یہ کہا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
Narrated Salama:We used to pray the Maghrib prayer with the Prophet (ﷺ) when the sun disappeared from the horizon
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے، فرمایا کہ ہم نماز مغرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت پڑھتے تھے جب سورج پردے میں چھپ جاتا۔
Narrated `Abdullah Al-Muzani:The Prophet (ﷺ) said, "Do not be influenced by bedouins regarding the name of your Maghrib prayer which is called `Isha' by them
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، جو عبداللہ بن عمرو ہیں، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا نہ ہو کہ ”مغرب“ کی نماز کے نام کے لیے اعراب ( یعنی دیہاتی لوگوں ) کا محاورہ تمہاری زبانوں پر چڑھ جائے۔ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا یا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدوی مغرب کو عشاء کہتے تھے۔
Narrated `Abdullah:"One night Allah's Messenger (ﷺ) led us in the `Isha' prayer and that is the one called Al-`Atma [??] by the people. After the completion of the prayer, he faced us and said, "Do you know the importance of this night? Nobody present on the surface of the earth tonight will be living after one hundred years from this night." (See Hadith No)
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے (میرے باپ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
Narrated Muhammad bin `Amr:We asked Jabir bin `Abdullah about the prayers of the Prophet (ﷺ) . He said, "He used to pray Zuhr prayer at midday, the `Asr when the sun was still hot, and the Maghrib after sunset (at its stated time). The `Isha was offered early if the people gathered, and used to be delayed if their number was less; and the morning prayer was offered when it was still dark
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ حجاج نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور ”عشاء“ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
Narrated `Aisha:Allah's Messenger (ﷺ) once delayed the `Isha' prayer and that was during the days when Islam still had not spread. The Prophet (ﷺ) did not come out till `Umar informed him that the women and children had slept. Then he came out and said to the people of the mosque: "None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (`Isha prayer) except you
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔
Narrated Abu Musa:My companions, who came with me in the boat and I landed at a place called Baqi [??] Buthan [??] . The Prophet (ﷺ) was in Medina at that time. One of us used to go to the Prophet (ﷺ) by turns every night at the time of the `Isha prayer. Once I along with my companions went to the Prophet (ﷺ) and he was busy in some of his affairs, so the `Isha' prayer was delayed to the middle of the night He then came out and led the people (in prayer). After finishing from the prayer, he addressed the people present there saying, "Be patient! Don't go away. Have the glad tiding. It is from the blessing of Allah upon you that none amongst mankind has prayed at this time save you." Or said, "None except you has prayed at this time." Abu Musa added, 'So we returned happily after what we heard from Allah's Messenger (ﷺ)
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطہ سے، انہوں نے ابی بردہ سے انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ ( حبشہ سے ) آئے تھے ”بقیع بطحان“ میں قیام کیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ ( کسی ملی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو فرما رہے تھے ) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو۔ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی ( امت ) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ یہ یقین نہیں کہ آپ نے ان دو جملوں میں سے کون سا جملہ کہا تھا۔ پھر راوی نے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے۔
Narrated Abu Barza:Allah's Messenger (ﷺ) disliked to sleep before the `Isha' prayer and to talk after it
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے، انہوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
Narrated Ibn Shihab from `Urwa:`Aisha said, "Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till `Umar reminded him by saying, "The prayer!" The women and children have slept. Then the Prophet (ﷺ) came out and said, 'None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (the prayer) except you." `Urwa said, "Nowhere except in Medina the prayer used to be offered (in those days)." He further said, "The Prophet (ﷺ) used to offer the `Isha' prayer in the period between the disappearance of the twilight and the end of the first third of the night
ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے سلیمان سے، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے عروہ سے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا، نماز! عورتیں اور بچے سب سو گئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا۔ راوی نے کہا، اس وقت یہ نماز ( باجماعت ) مدینہ کے سوا اور کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی۔ صحابہ اس نماز کو شام کی سرخی کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے تہائی حصہ تک ( کسی وقت بھی ) پڑھتے تھے۔