Overview

Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Inheritance. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Inheritance in Islam.

Key Lessons

Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Inheritance, and implementing its teachings in our interactions.

Practical Guidance

Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Inheritance and seeking knowledge to avoid common pitfalls.

Quranic Context

""

Advanced Filters

#371 | Narrated by Yazid bin Ruman from `Urwa
Sahih
حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ لَوْلاَ أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ، فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا، فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنهما ـ عَلَى هَدْمِهِ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ وَشَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ وَبَنَاهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الإِبِلِ‏.‏ قَالَ جَرِيرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ مَوْضِعُهُ قَالَ أُرِيكَهُ الآنَ‏.‏ فَدَخَلْتُ مَعَهُ الْحِجْرَ فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ فَقَالَ هَا هُنَا‏.‏ قَالَ جَرِيرٌ فَحَزَرْتُ مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا‏.‏
Translation:

Narrated Yazid bin Ruman from `Urwa:`Aisha said that the Prophet (ﷺ) said to her, "O Aisha! Were your nation not close to the Pre-Islamic Period of Ignorance, I would have had the Ka`ba demolished and would have included in it the portion which had been left, and would have made it at a level with the ground and would have made two doors for it, one towards the east and the other towards the west, and then by doing this it would have been built on the foundations laid by Abraham." That was what urged Ibn-Az-Zubair to demolish the Ka`ba. Yazid said, "I saw Ibn-Az-Zubair when he demolished and rebuilt the Ka`ba and included in it a portion of Al-Hijr (the unroofed portion of Ka`ba which is at present in the form of a compound towards the northwest of the Ka`ba). I saw the original foundations of Abraham which were of stones resembling the humps of camels." So Jarir asked Yazid, "Where was the place of those stones?" Yazid said, "I will just now show it to you." So Jarir accompanied Yazid and entered Al-Hijr, and Yazid pointed to a place and said, "Here it is." Jarir said, "It appeared to me about six cubits from Al-Hijr or so

اردو:

ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن رومان نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت ابھی تازہ نہ ہوتا، تو میں بیت اللہ کو گرانے کا حکم دے دیتا تاکہ ( نئی تعمیر میں ) اس حصہ کو بھی داخل کر دوں جو اس سے باہر رہ گیا ہے اور اس کی کرسی زمین کے برابر کر دوں اور اس کے دو دروازے بنا دوں، ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں۔ اس طرح ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اس کی تعمیر ہو جاتی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا کعبہ کو گرانے سے یہی مقصد تھا۔ یزید نے بیان کیا کہ میں اس وقت موجود تھا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرایا تھا اور اس کی نئی تعمیر کر کے حطیم کو اس کے اندر کر دیا تھا۔ میں نے ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے پائے بھی دیکھے جو اونٹ کی کوہان کی طرح تھے۔ جریر بن حازم نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا، ان کی جگہ کہاں ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ابھی دکھاتا ہوں۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ حطیم میں گیا اور آپ نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے۔ جریر نے کہا کہ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ جگہ حطیم میں سے چھ ہاتھ ہو گی یا ایسی ہی کچھ۔

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1586 Narrated by Yazid bin Ruman from `Urwa
#372 | Narrated by Usama bin Zaid
Sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَهَلْ تَرَكَ عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ وَلاَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنهما ـ شَيْئًا لأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لاَ يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانُوا يَتَأَوَّلُونَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ‏}‏ الآيَةَ‏.‏
Translation:

Narrated 'Usama bin Zaid:I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Where will you stay in Mecca? Will you stay in your house in Mecca?" He replied, "Has `Aqil left any property or house?" `Aqil along with Talib had inherited the property of Abu Talib. Jafar and `Ali did not inherit anything as they were Muslims and the other two were non-believers. `Umar bin Al-Khattab used to say, "A believer cannot inherit (anything from an) infidel." Ibn Shihab, (a sub-narrator) said, "They (`Umar and others) derived the above verdict from Allah's Statement: "Verily! those who believed and Emigrated and strove with their life And property in Allah's Cause, And those who helped (the emigrants) And gave them their places to live in, These are (all) allies to one another

اردو:

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں علی بن حسین نے، انہیں عمرو بن عثمان نے اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ مکہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے۔ ( سب بیچ کھوچ کر برابر کر دئیے ) عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا، کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہو گئے تھے اور عقیل رضی اللہ عنہ ( ابتداء میں ) اور طالب اسلام نہیں لائے تھے۔ اسی بنیاد پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے کہا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ ”جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1588 Narrated by Usama bin Zaid
#373 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَادَ قُدُومَ مَكَّةَ ‏ "‏ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:When Allah's Messenger (ﷺ) intended to enter Mecca he said, "Our destination tomorrow, if Allah wished, will be Khaif Bani Kinana where (the pagans) had taken the oath of Kufr." (Against the Prophet (ﷺ) i.e. to be loyal to heathenism by boycotting Bani Hashim, the Prophet's folk) (See Hadith)

اردو:

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ( منیٰ سے لوٹتے ہوئے حجتہ الوداع کے موقع پر ) مکہ آنے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ کل ان شاءاللہ ہمارا قیام اسی خیف بنی کنانہ ( یعنی محصب ) میں ہو گا جہاں ( قریش نے ) کفر پر اڑے رہنے کی قسم کھائی تھی۔

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1589 Narrated by Abu Huraira
#374 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:The Prophet;; said, "Dhus-Suwaiqa-tain (literally: One with two lean legs) from Ethiopia will demolish the Ka`ba

اردو:

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زیاد بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا ایک حقیر حبشی تباہ کر دے گا۔“

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1591 Narrated by Abu Huraira
#375 | Narrated by Abu Said Al-Khudri
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبَانُ وَعِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لاَ يُحَجَّ الْبَيْتُ ‏"‏‏.‏ وَالأَوَّلُ أَكْثَرُ، سَمِعَ قَتَادَةُ عَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدُ اللَّهِ أَبَا سَعِيدٍ‏.‏
Translation:

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri:The Prophet (ﷺ) said "The people will continue performing the Hajj and `Umra to the Ka`ba even after the appearance of Gog and Magog." Narrated Shu`ba extra: The Hour (Day of Judgment) will not be established till the Hajj (to the Ka`ba) is abandoned

اردو:

ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے حجاج بن حجاج اسلمی نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عبداللہ بن ابی عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت اللہ کا حج اور عمرہ یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔ عبداللہ بن ابی عتبہ کے ساتھ اس حدیث کو ابان اور عمران نے قتادہ سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن نے شعبہ کے واسطہ سے یوں بیان کیا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیت اللہ کا حج بند نہ ہو جائے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی روایت زیادہ راویوں نے کی ہے اور قتادہ نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا اور عبداللہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1593 Narrated by Abu Said Al-Khudri
#376 | Narrated by Abu Huraira
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ‏"‏‏.‏
Translation:

Narrated Abu Huraira:Allah's Messenger (ﷺ) said, "Dhus-Suwaiqatain (the thin legged man) from Ethiopia will demolish the Ka`ba

اردو:

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1596 Narrated by Abu Huraira
#377 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ قَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ ‏"‏‏.‏ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:When Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca, he refused to enter the Ka`ba with idols in it. He ordered (idols to be taken out). So they were taken out. The people took out the pictures of Abraham and Ishmael holding Azlams in their hands. Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah curse these people. By Allah, both Abraham and Ishmael never did the game of chance with Azlams." Then he entered the Ka`ba and said Takbir at its corners but did not offer the prayer in it

اردو:

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ( فتح مکہ کے دن ) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1601 Narrated by Ibn 'Abbas
#378 | Narrated by `Urwa
Sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَوَّلَ، شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ـ رضى الله عنهما ـ مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنه ـ فَأَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا‏.‏
Translation:

Narrated `Urwa:`Aisha said, "The first thing the Prophet (ﷺ) did on reaching Mecca, was the ablution and then he performed Tawaf of the Ka`ba and that was not `Umra (alone), (but Hajj-al-Qiran). `Urwa added: Later Abu Bakr and `Umar did the same in their Hajj." And I performed the Hajj with my father Az-Zubair, and the first thing he did was Tawaf of the Ka`ba. Later I saw the Muhajirin (Emigrants) and the Ansar doing the same. My mother (Asma') told me that she, her sister (`Aisha), Az-Zubair and such and such persons assumed Ihram for `Umra, and after they passed their hands over the Black Stone Corner (of the Ka`ba) they finished the Ihram. (i.e. After doing Tawaf of the Ka`ba and Sa`i between Safa-Marwa)

Sahih Bukhari 1614 Narrated by `Urwa
#379 | Narrated by `Urwa
Sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَوَّلَ، شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ـ رضى الله عنهما ـ مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنه ـ فَأَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا‏.‏
Translation:

Narrated `Urwa:`Aisha said, "The first thing the Prophet (ﷺ) did on reaching Mecca, was the ablution and then he performed Tawaf of the Ka`ba and that was not `Umra (alone), (but Hajj-al-Qiran). `Urwa added: Later Abu Bakr and `Umar did the same in their Hajj." And I performed the Hajj with my father Az-Zubair, and the first thing he did was Tawaf of the Ka`ba. Later I saw the Muhajirin (Emigrants) and the Ansar doing the same. My mother (Asma') told me that she, her sister (`Aisha), Az-Zubair and such and such persons assumed Ihram for `Umra, and after they passed their hands over the Black Stone Corner (of the Ka`ba) they finished the Ihram. (i.e. After doing Tawaf of the Ka`ba and Sa`i between Safa-Marwa)

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1615 Narrated by `Urwa
#380 | Narrated by Ibn 'Abbas
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اسْقِنِي ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اسْقِنِي ‏"‏‏.‏ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ ‏"‏ اعْمَلُوا، فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ـ ثُمَّ قَالَ ـ لَوْلاَ أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ ‏"‏‏.‏ ـ يَعْنِي عَاتِقَهُ ـ وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ‏.‏
Translation:

Narrated Ibn `Abbas:Allah's Messenger (ﷺ) came to the drinking place and asked for water. Al-Abbas said, "O Fadl! Go to your mother and bring water from her for Allah's Messenger (ﷺ) ." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give me water to drink." Al-Abbas said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The people put their hands in it." Allah's Messenger (ﷺ) again said, 'Give me water to drink. So, he drank from that water and then went to the Zamzam (well) and there the people were offering water to the others and working at it (drawing water from the well). The Prophet (ﷺ) then said to them, "Carry on! You are doing a good deed." Then he said, "Were I not afraid that other people would compete with you (in drawing water from Zamzam), I would certainly take the rope and put it over this (i.e. his shoulder) (to draw water)." On saying that the Prophet (ﷺ) pointed to his shoulder

اردو:

ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے کی جگہ ( زمزم کے پاس ) تشریف لائے اور پانی مانگا ( حج کے موقع پر ) عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ فضل! اپنی ماں کے یہاں جا اور ان کے یہاں سے کھجور کا شربت لا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ۔ عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہر شخص اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہے کہ مجھے ( یہی ) پانی پلاؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا پھر زمزم کے قریب آئے۔ لوگ کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور کام کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں دیکھ کر ) فرمایا کام کرتے جاؤ کہ ایک اچھے کام پر لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا ( اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ آئندہ لوگ ) تمہیں پریشان کر دیں گے تو میں بھی اترتا اور رسی اپنے اس پر رکھ لیتا۔ مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانہ سے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔

Hajj (Pilgrimage) Sahih Bukhari 1635 Narrated by Ibn 'Abbas

Frequently Asked Questions

What does Islam say about Inheritance?
Islam places great emphasis on Inheritance, considering it an integral part of faith and character.
How can one improve in Inheritance?
By following the Sunnah of the Prophet ﷺ and seeking authentic knowledge from the Quran and Hadith.