Food & Drink Hadiths
Explore authentic hadiths concerning Food — uncovering its importance and practical applications in Islamic teachings.
Overview
Authentic teachings from the Quran and Sunnah regarding Food. This topic covers the profound wisdom, practical implications, and fundamental rulings associated with Food in Islam.
Key Lessons
Key lessons include adhering to the boundaries set by Allah, recognizing the spiritual significance of Food, and implementing its teachings in our interactions.
Practical Guidance
Apply these teachings by constantly remembering Allah's commands related to Food and seeking knowledge to avoid common pitfalls.
Quranic Context
Advanced Filters
Narrated `Aisha:(the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke Allah in the prayer saying "Allahumma inni a`udhu bika min `adhabi l-qabr, wa a`udhu bika min fitnati l-masihi d-dajjal, wa a`udhu bika min fitnati l-mahya wa fitnati l-mamat. Allahumma inni a`udhu bika mina l-ma'thami wa l-maghram. (O Allah, I seek refuge with You from the punishment of the grave, from the afflictions of the imposter- Messiah, and from the afflictions of life and death. O Allah, I seek refuge with You from sins and from debt)." Somebody said to him, "Why do you so frequently seek refuge with Allah from being in debt?" The Prophet (ﷺ) replied, "A person in debt tells lies whenever he speaks, and breaks promises whenever he makes (them)." `Aisha also narrated: I heard Allah's Messenger (ﷺ) in his prayer seeking refuge with Allah from the afflictions of Ad-Dajjal
Narrated Abu Bakr As-Siddiq:I asked Allah's Messenger (ﷺ) to teach me an invocation so that I may invoke Allah with it in my prayer. He told me to say, "Allahumma inni zalumtu nafsi zulman kathiran, Wala yaghfiru dh-dhunuba illa anta, fa ghfir li maghfiratan min `indika, wa r-hamni, innaka anta l-ghafuru r-rahim (O Allah! I have done great injustice to myself and none except You forgives sins, so bestow on me a forgiveness from You, and Have Mercy on me, You are the Forgiver, the Merciful)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن ابی حبیب سے بیان کیا، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے، ان سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي مغفرة من عندك، وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں نے اپنی جان پر ( گناہ کر کے ) بہت زیادہ ظلم کیا پس گناہوں کو تیرے سوا کوئی دوسرا معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے بھرپور مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم کر کہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا بیشک وشبہ تو ہی ہے۔
Narrated `Ata':I heard Jabir bin `Abdullah saying, "The Prophet (ﷺ) said, 'Whoever eats (from) this plant (he meant garlic) should keep away from our mosque." I said, "What does he mean by that?" He replied, "I think he means only raw garlic
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ درخت کھائے ( آپ کی مراد لہسن سے تھی ) تو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے عطاء نے کہا میں نے جابر سے پوچھا کہ آپ کی مراد اس سے کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی مراد صرف کچے لہسن سے تھی۔ مخلد بن یزید نے ابن جریج کے واسطہ سے ( الانیہ کے بجائے ) الانتنہ نقل کیا ہے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف لہسن کی بدبو سے تھی ) ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah:The Prophet (ﷺ) said, "Whoever eats garlic or onion should keep away from our mosque or should remain in his house." (Jabir bin `Abdullah, in another narration said, "Once a big pot containing cooked vegetables was brought. On finding unpleasant smell coming from it, the Prophet (ﷺ) asked, 'What is in it?' He was told all the names of the vegetables that were in it. The Prophet (ﷺ) ordered that it should be brought near to some of his companions who were with him. When the Prophet (ﷺ) saw it he disliked to eat it and said, 'Eat. (I don't eat) for I converse with those whom you don't converse with (i.e. the angels)
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ عطاء جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے ہوئے ہو تو وہ ہم سے دور رہے یا ( یہ کہا کہ اسے ) ہماری مسجد سے دور رہنا چاہیے یا اسے اپنے گھر میں ہی بیٹھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کئی قسم کی ہری ترکاریاں تھیں۔ ( پیاز یا گندنا بھی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور اس کے متعلق دریافت کیا۔ اس سالن میں جتنی ترکاریاں ڈالیں گئی تھیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں۔ وہاں ایک صحابی موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی طرف یہ سالن بڑھا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگ کھا لو۔ میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے یوں نقل کیا کہ تھال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی تھی۔ ابن وہب نے کہا کہ طبق جس میں ہری ترکاریاں تھیں اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے روایت میں ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ( یا سعید یا ابن وہب نے کہا ) میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ خود زہری کا قول ہے یا حدیث میں داخل ہے۔
Narrated `Abdul `Aziz:A man asked Anas, "What did you hear from the Prophet (ﷺ) about garlic?" He said, "The Prophet (ﷺ) said, 'Whoever has eaten this plant should neither come near us nor pray with us
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس درخت کو کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
Narrated Ibn `Abbas:One night I slept at the house of my aunt Maimuna and the Prophet (ﷺ) slept (too). He got up (for prayer) in the last hours of the night and performed a light ablution from a hanging leather skin. (`Amr, the sub-narrator described that the ablution was very light). Then he stood up for prayer and I got up too and performed the ablution in the same way and joined him on his left side. He pulled me to the right and prayed as much as Allah will. Then he lay down and slept and I heard his breath sounds till the Mu'adh-dhin came to him to inform him about the (Fajr) prayer. He left with him for the prayer and prayed without repeating the ablution. (Sufyan the sub-narrator said: We said to `Amr, "Some people say, 'The eyes of the Prophet (ﷺ) sleep but his heart never sleeps.' " `Amr said, "'Ubai bin `Umar said, 'The dreams of the Prophets are Divine Inspirations. Then he recited, '(O my son), I have seen in dream that I was slaughtering you (offering you in sacrifice)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی ابن عباس سے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سویا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سو گئے۔ پھر رات کا ایک حصہ جب گزر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو ( راوی حدیث نے ) اس وضو کو بہت ہی ہلکا بتلایا ( یعنی اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم پانی استعمال فرمایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اس کے بعد میں نے بھی اٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے داہنی طرف پھیر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے پھر سو گئے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے۔ آخر مؤذن نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی مگر ( نیا ) وضو نہیں کیا سفیان نے کہا۔ ہم نے عمرو بن دینار سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ( سوتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( صرف ) آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو بن دینار نے جواب دیا کہ میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے پھر عبید نے اس آیت کی تلاوت کی «إني أرى في المنام أني أذبحك» ( ترجمہ ) میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔
Narrated Anas bin Malik:My grandmother Mulaika invited Allah's Messenger (ﷺ) for a meal which she had prepared specially for him. He ate some of it and said, "Get up. I shall lead you in the prayer." I brought a mat that had become black owing to excessive use and I sprinkled water on it. Allah's Messenger (ﷺ) stood on it and prayed two rak`at; and the orphan was with me (in the first row), and the old lady stood behind us
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ( ان کی ماں ) اسحاق کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا جسے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ضیافت تیار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر فرمایا کہ چلو میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ ہمارے یہاں ایک بوریا تھا جو پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پانی سے صاف کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ( پیچھے ) میرے ساتھ یتیم لڑکا ( ضمیرہ بن سعد ) کھڑا ہوا۔ میری بوڑھی دادی ( ملیکہ ام سلیم ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔
Narrated Anas:Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have told you repeatedly to use the Siwak. (The Prophet (ﷺ) put emphasis on the use of the Siwak
ہم سے ابومعمر عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب بن حبحاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے مسواک کے بارے میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔
Narrated Ibn `Umar:One of the wives of `Umar (bin Al-Khattab) used to offer the Fajr and the `Isha' prayer in congregation in the Mosque. She was asked why she had come out for the prayer as she knew that `Umar disliked it, and he has great ghaira (self-respect). She replied, "What prevents him from stopping me from this act?" The other replied, "The statement of Allah's Messenger (ﷺ) : 'Do not stop Allah's women-slaves from going to Allah's Mosques' prevents him
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبیداللہ ابن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو صبح اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا کرتی تھیں۔ ان سے کہا گیا کہ باوجود اس علم کے کہ عمر رضی اللہ عنہ اس بات کو مکروہ جانتے ہیں اور وہ غیرت محسوس کرتے ہیں پھر آپ مسجد میں کیوں جاتی ہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کر دیتے۔ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی وجہ سے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو۔
Narrated Aisha:(the wife of the Prophet) The people used to come from their abodes and from Al-`Awali (i.e. outskirts of Medina up to a distance of four miles or more from Medina). They used to pass through dust and used to be drenched with sweat and covered with dust; so sweat used to trickle from them. One of them came to Allah's Messenger (ﷺ) who was in my house. The Prophet (ﷺ) said to him, "I wish that you keep yourself clean on this day of yours (i.e. take a bath)
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے کہ محمد بن جعفر بن زبیر نے ان سے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ نے، آپ نے کہا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے گھروں سے اور اطراف مدینہ گاؤں سے ( مسجد نبوی میں ) باری باری آیا کرتے تھے۔ لوگ گردوغبار میں چلے آتے، گرد میں اٹے ہوئے اور پسینہ میں شرابور۔ اس قدر پسینہ ہوتا کہ تھمتا ( رکتا ) نہیں تھا۔ اسی حالت میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس دن ( جمعہ میں ) غسل کر لیا کرتے تو بہتر ہوتا۔